مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ امریکی قیادت کو مختلف ممالک میں شادی کی تقریبات پر حملوں کے اپنے سیاہ ریکارڈ کے بارے میں دنیا کے سامنے جواب دینا ہوگا۔
سپاہ پاسداران نے کہا ہے کہ سینٹ کام نے ایک ناقابل فراموش جنگی جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے سیریک کے علاقے کوہستک سے تعلق رکھنے والے ایک معزز خاندان کی شادی کی تقریب پر براہِ راست فضائی حملہ کیا اور خوشی کی اس تقریب کو سوگ میں تبدیل کردیا۔
بیان کے مطابق امریکی فوج کے حملے میں تقریباً 70 افراد نشانہ بنے، جن میں سے 4 افراد شہید ہوئے، جبکہ 7 زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
بیان کے مطابق گزشتہ رات اس واقعے پر ایرانی عوام، عالمی ذرائع ابلاغ اور آزاد شخصیات، حتیٰ کہ بعض امریکی میڈیا اداروں کے ردعمل کے بعد امریکی فوج اور اس کے حکام نے متعدد بیانات کے ذریعے اس حملے کو دانستہ قرار دینے سے انکار کرنے کی کوشش کی اور ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ امریکی فوج شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔ جبکہ دنیا کے عوام کے لیے اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ خوف و دہشت پیدا کرنے کے لیے شہریوں کو نشانہ بنانا امریکی فوجی نظریے کا حصہ ہے۔
سپاہ نے اپنے بیان میں شادی کی تقریبات پر ہونے والے متعدد حملوں کی تفصیلات پیش کی ہیں۔
یکم جولائی 2002: افغانستان کے صوبہ ارزگان کے گاؤں کاکارک میں شادی کی تقریب پر بمباری میں 100 سے زائد افراد شہید ہوئے۔
18 ستمبر 2003: عراق کے شہر فلوجہ میں شادی کی تقریب پر بمباری کے نتیجے میں 5 سے زائد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
19 مئی 2004: عراق کے صوبہ الانبار کے بکر الدیب علاقے میں شادی کی تقریب پر بمباری میں 42 افراد شہید ہوئے۔
8 اکتوبر 2004: فلوجہ میں شادی کی تقریب پر بمباری میں دلہا سمیت 13 افراد شہید ہوئے۔
6 جولائی 2008: افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع دہ بالا میں شادی کی تقریب پر بمباری میں دلہن سمیت 47 افراد شہید ہوئے۔
نومبر 2008: افغانستان کے صوبہ قندھار کے وچ بغتو میں شادی کی تقریب پر بمباری میں 23 بچوں سمیت 37 افراد شہید ہوئے۔
جون 2012: افغانستان کے صوبہ لوگر میں شادی کی تقریب پر بمباری میں 18 افراد شہید ہوئے جن میں 9 بچے شامل تھے۔
28 ستمبر 2015: یمن کے صوبہ تعز کے وقیقہ میں شادی کی تقریب پر امریکی حمایت یافتہ اتحاد کی بمباری میں 131 خواتین اور بچے شہید ہوئے۔
یکم ستمبر 2026: ایران کے صوبہ ہرمزگان کے سیریک کاؤنٹی کے کوہستک میں شادی کی تقریب پر بمباری میں 70 نفر شہید و زخمی ہوگئے۔
سپاہ پاسداران نے مزید کہا کہ امریکی رہنما حملوں پر معذرت کرنے کے بجائے ایک بار پھر جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں اور میناب، لامرد اور قشم کے واقعات کی طرح جواب دہی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا یہ تمام واقعات محض حادثات اور غلطی سے ہوئے تھے؟
سپاہ پاسداران نے مزید کہا کہ ایران کے پاس فوجی طاقت موجود ہے اور اس نے گزشتہ رات سینٹ کام کے خونخوار دہشت گردوں کے خلاف جوابی کارروائی کی ہے۔
بیان میں امریکی عوام سے کہا گیا کہ اگر وہ اپنی حکومت کی اس فوجی مشینری کو نہ روکیں تو انہیں اس دن سے خوفزدہ ہونا چاہیے جب مظلوموں کے انتقام کا وقت آئے گا۔
آپ کا تبصرہ